ہر انسان کا اپنا ایک عدد ہوتا ہے، جو اس پر اثرانداز ہوتا ہے۔اس عدد کے ذریعے انسان کی شخصیت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور اسکی خوبیاں اور خامیاں معلوم کی جاسکتی ہیں اور انہیں دور بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا عدد ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ہمارا لکی دن، لکی تاریخ، لکی نمبر، لکی رنگ اور لکی سٹون کون سا ہے۔ ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ کسی خاص عدد کی حامل خواتین کا مزاج کیسا ہوتا ہے۔ ہم اپنے عدد کو جان کر بہت سے فائدے اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم دوسروں کے عدد کو جان کر ان کی شخصیت کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں اور غیر ضروری اختلافات اور غلط فہمیوں سے بچ کران سے بہتر
تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔
کائنات میں دو ہی قوتیں سرگرم عمل ہیں ایک رد کی قوت اور دوسری قبول کی طاقت کائنات میں بہت ساری اشیاء ، عناصر، طبیعتیں اور معاملات وغیرہ ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو رد کرتے ہیں۔ ایسی متضاد قوتوں کا ملاپ بسا اوقات خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔ آپ کو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو یہ شکوہ کرتے نظر آئیں گے کہ میں نے فلاں وظیفہ پڑھا لیکن مجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بعض لوگ تو وظائف پڑھنے پر الٹا نقصان کی شکایت کرتے ملیںگے۔ اصل میں یہ حضرات کوئی ایسا وظیفہ منتخب کر بیٹھتے ہیں جو ان کی کیمسٹری کی ضد ہوتا ہے۔ اس طرح دو متضاد قوتوں کا تصادم ہو جاتا ہے جس میں بے چارے وظیفہ پڑھنے والے لا علمی کی وجہ سے پس جاتے ہیں۔ کائناتی نظام میں توازن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایٹم سے لیکر نظام شمسی تک اور نظام شمسی سے لیکر کہکشاﺅں تک ساری کائنات اللہ کے قائم کردہ توازن پر کھڑی ہے اور توازن کا نام ہی زندگی ہے۔ اپنے ذاتی نام کا اسم اعظم چونکہ ایک متوازن وظیفہ ہے اس لیے یہ پڑھنے والے کے تمام معاملات کو متوازن کرکے اسے ایک کامیاب اور مطمئن انسان بنا دیتا ہے۔